نازل ہوئی ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا‘‘ یہاں تک کہ آیت (’’ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘ تک) پوری ہوگئی۔(بخاری، کتاب التفسیر، باب اِنّ الذین یُنادونک... الخ، ۳/۳۳۲، الحدیث: ۴۸۴۷) اس صورت میں اس شانِ نزول کا تعلق آیت نمبر 1اور2دونوں سے ہے ۔
(2)… دوسرا شانِ نزول یہ بیان ہوا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں منافقین اپنی آوازیں بلند کیا کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان(اس معاملے میں )ان کی پیروی کریں ،اس پر مسلمانوں کوبارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں آواز بلند کرنے سے منع کر دیا گیا (تاکہ منافق اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوں )( قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲، ۸/۲۲۰، الجزء السادس عشر)
(3)…تیسرا شانِ نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی، وہ اونچا سنا کرتے تھے ، اُن کی آواز بھی اُونچی تھی اور بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی اور بعض اوقات اس سے حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اَذِیَّت ہوتی تھی۔( مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۱۵۰)
حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بلند آوازسے بات کرنا اگرچہ اونچا سننے کی معذوری کی بنا پر تھا لیکن معذوری اونچا سننا تھا نہ کہ اونچا بولنا کیونکہ اونچا سننے والے کیلئے اونچا بولنا تو ضروری نہیں اور اونچا سننے والے کو سمجھایا جائے کہ بھائی، تمہیں اونچا سنتا ہے ، دوسروں کو نہیں لہٰذا تم اپنی آواز پَست رکھو تو اس کہنے میں حرج نہیں بلکہ یہ عین درست اور قابلِ عمل بات ہے اور تیسرے شانِ نزول کے اعتبار سے یہی تفہیم کی گئی ہے۔
نوٹ: اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق اور بھی روایات ہیں ،ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے مختلف اسباب پیدا ہوئے ہوں اور بعد میں ایک ہی مرتبہ یہ آیت نازل ہو گئی ہو،جیسا کہ علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں کہ آیت کا نزول مختلف اَسباب کی وجہ سے ہوا ہوجو آیت نازل ہونے سے پہلے وقوع پَزیر ہوئے تھے اور جب ان (روایات جن میں یہ) اَسباب (بیان ہوئے،) کی اسناد صحیح ہیں اور ان میں تطبیق واضح ہے تو پھر ان میں سے کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔( فتح الباری، کتاب التفسیر، باب لاترفعوا اصواتکم... الخ، ۹/۵۱۰، تحت الحدیث: ۴۸۴۶)