سکھائے ہیں ،پہلا ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آوز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے اَلقاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یا نَبِیَّ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲، ۸/۲۲۰، الجزء السادس عشر)
مفسرین نے اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں مختلف روایات ذکر کی ہیں ،ان میں سے چندروایت درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت ابن اَبی مُلیکہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : دو بہترین حضرات ہلاک ہونے کے قریب جا پہنچے تھے، ہُوا یوں کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس وقت اپنی آوازیں اونچی کر دی تھیں جب بنو تمیم کے سوار بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے ،اُن میں سے ایک صاحب نے بنی مجاشع کے بھائی اقرع بن حابس کی طرف اشارہ کیا(کہ انہیں ان کی قوم کا حاکم بنا دیاجائے) اور دوسرے نے ایک اور شخص کی جانب اشارہ کیا۔حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا:آپ(یہ کہہ کر) میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا:میں تو آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے ان دونوں حضرات کی آوازیں بلند ہو گئیں ،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ۔۔۔الایہ‘‘۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب لا ترفعوا اصواتکم... الخ، ۳/۳۳۱، الحدیث: ۴۸۴۵)
صحیح بخاری شریف کی دوسری روایت میں ہے ،حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے یہی واقعہ مروی ہے ،البتہ اس کے آخر میں یہ ہے کہ ’’اس گفتگو کے دوران ان کی آوازیں بلند ہو گئیں تو اس معاملے میں یہ آیت