رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا’’اے ابو دردائ!کیا تم اس کے آگے چلتے ہو جو تم سے بلکہ ساری دنیا سے افضل ہے ۔( روح البیان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱، ۹/۶۲)
یا درہے کہ یہ ادب ان علماءِ کرام کے لئے ہے جو اہلِ حق اور با عمل ہیں کیونکہ یہی علماء در حقیقت انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں جبکہ بد مذہبوں کے علماء اور بے عمل عالِم اس ادب کے مستحق نہیں ہیں ۔
(5)… بعض ادب والے لوگ بزرگوں یا قرآن شریف کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، ان کے اس عمل کا ماخَذ یہ آیت ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔} اس آیت ِمبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کواپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دو عظیم آداب