میں جا رہے ہوں تو آگے آگے چلنا منع ہے مگر خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت سے اجازت لے کر(چلنا منع نہیں )، اگر ساتھ کھانا ہو تو پہلے شروع کر دینا ناجائز،اسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی رائے سے مقدم کرنا حرام ہے۔( شان حبیب الرحمن، ص۲۲۴)
آیت ’’لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ سے متعلق5باتیں :
یہاں اس آیت سے متعلق5باتیں ملاحظہ ہوں
(1)…اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائے ہیں ۔
(2)…اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دونوں سے آگے نہ بڑھنے کا فرمایا گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ سے آگے ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ نہ زمانہ میں ہے نہ کسی مکان میں اور آگے ہونا یا زمانہ میں ہوتا ہے یا جگہ میں ، معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے آگے نہ بڑھو،ان کی بے ادبی دراصل اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔( شان حبیب الرحمن،ص۲۲۴-۲۲۵، ملخصاً)
(3)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت کی بنا پر آپ سے اجازت لے کر آگے بڑھنا اس ممانعت میں داخل نہیں ہے ،لہٰذا اَحادیث میں جو بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آگے آگے چلنا مذکور ہے وہ اس آیت میں داخل نہیں کیونکہ ان کا چلنا خادم کی حیثیت سے تھا، یونہی حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا امامت کروانابھی اس میں داخل نہیں کیونکہ آپ کا یہ عمل حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت سے تھا۔
(4)…علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :علماءِ کرام چونکہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں اس لئے ان سے آگے بڑھنا بھی اس ممانعت میں داخل ہے اور اس کی دلیل حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی وہ روایت ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے حضرت ابو بکر صدیق