ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھواور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سُنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنارسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
اس آیت کے شان نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں ،ان میں سے دو رِوایات درجِ ذیل ہیں ،
(1)…چند لوگوں نے عیدُالاضحی کے دِن سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں ۔
(2)… حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے آگے نہ بڑھو۔ (خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۱۶۳-۱۶۴، جلالین، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱، ص۴۲۶، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۱۴۹-۱۱۵۰، ملتقطاً)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :(اس آیت کا)شانِ نزول کچھ بھی ہو مگر یہ حکم سب کو عام ہے یعنی کسی بات میں ،کسی کام میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے آگے ہونا منع ہے ،اگر حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے ہمراہ راستہ