(3)… یہ حکم دیاگیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دی جائے اور اگر وہ صلح نہ کریں تو ان میں سے جو گروہ باطل پر ہو تو اس کے ساتھ جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ راہ ِراست پر گامزن ہو جائے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں اپنے ایمان کا احسان جتانے والوں کی سرزَنِش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ کسی کا اسلام قبول کرنا اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کوئی احسان نہیں ہے نیز حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے پھر وہ دین کے کسی کام میں شک نہ کرے اور اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے۔
سورۂ فتح کے ساتھ مناسبت:
سورۂ حجرات کی اپنے سے ما قبل سورت ’’فتح‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فتح میں کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں بیان ہوا اور سورۂ حجرات میں باغیوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں بیان ہوا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور مقام و مرتبہ بیان کیاگیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)