لئے دی گئی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں ۔( مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۴۸)اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے جلنا کافروں کا طریقہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی اُلفت و محبت نصیب فرمائے، آمین۔
{وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ: اللہ نے ان میں سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔} اس آیت کے شروع میں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اَوصاف و فضائل بیان کیے گئے اور آخر میں ان کو مغفرت اوراجر ِعظیم کی بشارت دی جارہی ہے۔یاد رہے کہ تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ صاحبِ ایمان اور نیک اعمال کرنے والے ہیں اس لئے یہ وعدہ سبھی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ہے۔