ہیں اور خاص طور پر وہ مثا ل مذکور ہے جو آگے بیان ہو رہی ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہاں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے جو اَوصاف بیان ہوئے یہ توریت میں مذکور ہیں اور انجیل میں مذکور ہے کہ ان کی مثال ایسے ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقت دی، پھر وہ موٹی ہوگئی ،پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی اوران چیزوں کی وجہ سے وہ کسانوں کو اچھی لگتی ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کی ابتداء اور اس کی ترقی کی مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تنہا اُٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے مخلص اَصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے تَقْوِیَت دی۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَصحاب کی مثال انجیل میں یہ لکھی ہے کہ ایک قوم کھیتی کی طرح پیدا ہوگی،اس کے لوگ نیکیوں کا حکم کریں گے اور بدیوں سے منع کریں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ کھیتی سے مراد حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں اور اس کی شاخوں سے مراد صحابہ ٔکرام اور (ان کے علاوہ) دیگر مومنین ہیں۔( تفسیرکبیر ، الفتح ، تحت الآیۃ : ۲۹ ، ۱۰/۸۹ ، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۶۲، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۴۸، ملتقطاً)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ـصحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ) کو کھیتی سے اس لئے تشبیہ دی کہ جیسے کھیتی پر زندگی کا دار و مدار ہے ایسے ہی ان پر مسلمانوں کی ایمانی زندگی کا مدار ہے اور جیسے کھیتی کی ہمیشہ نگرانی کی جاتی ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ ہمیشہ صحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ) کی نگرانی فرماتا رہتا رہے گا، نیز جیسے کھیتی اولاً کمزور ہوتی ہے پھر طاقت پکڑتی ہے ایسے ہی صحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ) اولاً بہت کمزورمعلوم ہوتے تھے پھر طاقتور ہوئے۔( نور العرفان، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۸۲۲)
آیت کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ جس طرح توریت اور انجیل میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت شریف مذکور تھی ایسے ہی حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے مَناقِب بھی تھے۔
{لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ: تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں ۔} یعنی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو کھیتی سے تشبیہ اس