Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
389 - 764
(6)…حضرت نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  رات میں  نماز پڑھتے، پھر فرماتے :اے نافع!کیا سحری کا وقت ہو گیا؟وہ عرض کرتے:نہیں ،تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ دوبارہ نماز پڑھنا شروع کر دیتے، پھر (جب نماز سے فارغ ہوتے تو) فرماتیـ:اے نافع!کیا سحری کا وقت ہو گیا؟میں  عرض کرتا:جی ہاں ،تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ بیٹھ کر استغفار اور دعا میں  مصروف ہو جاتے یہاں  تک کہ صبح ہو جاتی۔( معجم الکبیر، عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہما، ۱۲/۲۶۰، الحدیث: ۱۳۰۴۳)
(7)…جب قبیلہ بنو حارث کے لوگ حضرت خبیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو شہید کرنے کے لئے مقامِ تنعیم کی طرف لے گئے تواس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے ان سے فرمایا: مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔انہوں  نے اجازت دیدی تو آپ نے نماز ادا کرنے کے بعد ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!اگرتم یہ گمان نہ کرتے کہ میں  موت سے ڈر کر لمبی نماز پڑھ رہا ہو ں  تو میں  ضرور نماز کو طویل کردیتا۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث، ص۳۷۱،  ملخصاً)
	اللہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں  کی مقبول نمازوں  کے صدقے ہمیں  بھی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
{سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِِ: ان کی علامت ان کے چہروں  میں سجدوں  کے نشان سے ہے۔} یعنی ان کی عبادت کی علامت ان کے چہروں  میں  سجدوں  کے اثر سے ظاہر ہے ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ علامت وہ نور ہے جو قیامت کے دن اُن کے چہروں  سے تاباں  ہوگا اور اس سے پہچانے جائیں  گے کہ انہوں نے دنیا میں  اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے بہت سجدے کئے ہیں ۔بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ وہ علامت یہ ہے کہ ان کے چہروں  میں  سجدے کا مقام چودھویں  رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتا ہوگا۔حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا قول ہے کہ رات کی لمبی نمازوں  سے اُن کے چہروں  پر نور نمایاں  ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں  ہے: جو رات میں  کثرت سے نماز پڑھتا ہے تو صبح کو اس کا چہرہ خوب صورت ہوجاتا ہے۔‘‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرد کا نشان بھی سجدہ کی علامت ہے۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۶۲، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۴۸، ملتقطا)
{ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ: یہ ان کی صفت توریت میں  ہے اور ان کی صفت انجیل میں  ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ توریت اور انجیل میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے بیان کردہ یہ اوصاف مذکور