صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عبادت کا حال:
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت سے فیضیاب فرمایا اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی خود تربیت فرمائی جس کی برکت سے یہ حضرات نیک کاموں میں مصروف رہتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں خوب کوشش کیا کرتے تھے، یہاں بطورِ خاص نماز کے حوالے سے ان کی کوشش،جذبے اور عمل سے متعلق7واقعات ملاحظہ ہوں
(1)…جب نماز کا وقت ہوتا تو حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایاکرتے :اے لوگو! اٹھو، (گناہوں کی) جو آگ تم نے جلا رکھی ہے اسے (نماز ادا کر کے) بجھا دو(کیونکہ نماز گناہوں کی آگ بجھا دیتی ہے)۔( احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا، الباب الاول، فضیلۃ المکتوبۃ، ۱/۲۰۱)
(2)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :اگر تین چیزیں نہ ہوتیں (یعنی)اگر میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی پیشانی کو(سجدے میں )نہ رکھتا،یاایسی مجلسوں میں نہ بیٹھتا جن میں اچھی باتیں اس طرح چنی جاتی ہیں جیسے عمدہ کھجوریں چنی جاتی ہیں یاراہِ خدا میں سفر نہ کرتا تو میں ضرور اللہ تعالیٰ سے ملاقات (یعنی وفات پا جانے) کو پسند کرتا۔( حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، ۱/۸۷، الحدیث: ۱۳۰)
(3)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ (ممنوع اَیّام کے علاوہ) مسلسل روزہ رکھا کرتے اور رات کے ابتدائی حصے میں کچھ دیر آرام کرتے پھر ساری رات عبادت میں بسر کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب صلاۃ التطوع... الخ، من کان یامر بقیام اللیل، ۲/۱۷۳، الحدیث: ۶)
(4)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ فرماتی ہیں :آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ساری رات عبادت کرتے اور (بسا اوقات)ایک رکعت میں قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے۔( معجم الکبیر، سن عثمان ووفاتہ رضی اللّٰہ عنہ، ۱/۸۷، الحدیث:۱۳۰)
(5)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں مروی ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا،آپ سے عرض کی گئی:اے امیر المومنین!آپ کو کیا ہو گیا؟ارشاد فرمایا: ’’اس امانت کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اسے اٹھانے سے ڈر گئے۔( احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا، فضیلۃ الخشوع، ۱/۲۰۶)