(2)…بشر نامی منافق نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے قتل کر دیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اُس کا میرے پاس یہ فیصلہ ہے ۔
(3)…جب منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی مر گیا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی رائے یہ تھی اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے اور اس کی قبر پر نہ جایا جائے، اس کی تائید میں بھی قرآنِ مجید کی آیت نازل ہوئی ۔
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی باہمی نرم دلی:
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں کے ساتھ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سلوک کا حال بیان ہوا اور اب اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کامل محبت کرنے والوں کے باہمی سلوک کا حال ملاحظہ ہو،چنانچہ ان کا یہ وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ آپس میں نرم دل ہیں ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ آپس میں ایسے نرم دل اورایک دوسر ے کے ساتھ ایسے محبت و مہربانی کرنے والے تھے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ کرتا ہے اور ان کی یہ ایمانی محبت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جب ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دوسرے کو دیکھتے تو فرطِ محبت سے مصافحہ اورمعانقہ کرتے۔
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی اس سیرت میں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی نصیحت ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے نفرت نہ کرے اور اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئے بلکہ شفقت و نرمی سے پیش آئے اوراس کے ساتھ مہربانی بھرا سلوک کرے ۔حدیثِ پاک میں ہے کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت ،باہمی محبت اور مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عُضْوْ بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اَعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔( بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ النّاس والبہائم، ۴/۱۰۳، الحدیث: ۶۰۱۱)اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آپس میں شفقت و نرمی سے پیش آنے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا: تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے ،سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا۔} یعنی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کثرت سے اور پابندی کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں اسی لئے کبھی تم انہیں رکوع کرتے اور کبھی سجدہ کرتے ہوئے دیکھو گے اوراس قدر عبادت سے ان کامقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنا ہے۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۶۲، روح البیان، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ۹/۵۷، ملتقطاً)