تو ہم محتاج اور ضعیف ہو کر (واسطے کے بغیر) رب تعالیٰ سے تعلق کیسے رکھ سکتے ہیں ۔( شان حبیب الرحمن، ص ۲۱۸)
{وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ: اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں ۔} آیت کے اس حصے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اَوصاف بیان فرما کر ان کی پہچان کروائی ہے ،چنانچہ ارشادفرمایا کہ جو لوگ میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور ایک دوسرے پر مہربان ہیں ۔
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی کافروں پر سختی:
انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پر سختی کرتا ہے اور اس میں بھی جس کی محبت جتنی زیادہ ہو ا س کی اپنے محبوب کے دشمن سے نفرت اور سختی بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور یہ چیزاس کے عشق و محبت کی علامات میں سے ایک اہم علامت شمار کی جاتی ہے ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عشق و محبت بے مثال اور لا زوال ہے اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِگرامی انہیں اپنے مال ،اولاد ،اہل و عیال حتّٰی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز تھی اور اسی بے انتہاء عشق و محبت کا یہ نتیجہ تھا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں یعنی کفار سے سخت نفرت کرتے اور ان پر انتہائی سختی فرمایا کرتے تھے اور ان کے اسی عمل کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان کے ایک وصف کے طور پر بیان فرمایاہے کہ میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ کافروں پر سخت ہیں ۔‘‘
عمومی طور پر تما م صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہی کافروں پر سختی فرمایا کرتے تھے البتہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اس معاملے میں سب سے زیادہ مشہور تھے ،حتّٰی کہ شیطان جیسا بدترین کافر بھی آپ کی سختی سے ڈرتا تھا، یہاں آپ کی اس سیرت سے متعلق تین واقعات کا خلاصہ ملاحظہ ہو،
(1) …غزوہ ٔبدر کے بعدآپ نے یہ رائے پیش کی کہ سارے کافر قیدی قتل کر دئیے جائیں اورآپ کی اس رائے کی تائید میں قرآنِ مجید کی آیات نازل ہوئیں ۔