Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
385 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں  پر سخت ، آپس میں  نرم دل ہیں ۔ تُو انہیں  رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں  میں  سجدوں  کے نشان سے ہے ۔یہ ان کی صفت تورات میں  (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں  (مذکور) ہے۔ (ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی پھر اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، کسانوں  کو اچھی لگتی ہے (اللہ نے مسلمانوں  کی یہ شان اس لئے بڑھائی) تاکہ ان سے کافروں  کے دل جلائے۔ اللہ نے ان میں  سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں  سے بخشش اور بڑے ثواب کاوعدہ فرمایا ہے۔
{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ: محمد اللہ کے رسول ہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کروائی کہ’’ اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ‘‘ اور اس آیت میں  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پہچان کروا رہا ہے کہ محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔
	مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اگرچہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات بہت ہیں ، لیکن رب تعالیٰ نے انہیں  یہاں  رسالت کی صفت سے یاد فرمایا اور کلمہ میں  بھی یہ ہی وصف رکھا،دو وجہ سے ، ایک یہ کہ حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا تعلق رب (عَزَّوَجَلَّ) سے بھی ہے اور مخلوق سے بھی۔رسول میں  ان دونوں  تعلقوں  کا ذکر ہے یعنی خدا کے بھیجے ہوئے اور مخلوق کی طرف بھیجے ہوئے ۔اگرچہ نبی میں  بھی یہ بات حاصل ہے لیکن نبی میں  صرف خبر لاناہے اور رسول میں  (شریعت و کتاب) خبر،ہدایات اور انعامات سب لانے کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے اس لئے کہ و ہ بچھڑوں  کو ملانے والے رسول ہی ہوتے ہیں ، جیسے ڈاک کا محکمہ کہ اگر یہ نہ ہوں  تو وہ ملک اور وہ شہر کٹ جاویں ، اسی طرح خالق و مخلوق میں  تعلق پیدا کرنے والے رسول ہی ہیں  کہ اگر ان کا واسطہ درمیان میں  نہ ہو تو خالق و مخلوق میں  کوئی تعلق نہ رہے، حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے رسول ہیں  کہ اُس کی نعمتیں  ہم تک پہنچاتے ہیں  اور ہمارے رسول ہیں  کہ ہماری درخواستیں  بارگاہِ رب میں  پیش فرماتے ہیں  اور ہمارے گناہ وہاں  پیش کر کے معاف کراتے ہیں ،جو کہے کہ ہم خود رب (عَزَّوَجَلَّ) تک پہنچ جائیں  گے وہ درپردہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رسالت کا منکر ہے ،اگر ہم وہاں  خود پہنچ جاتے تو رسول کی کیا ضرورت تھی، رب (عَزَّوَجَلَّ) غنی ہو کر بغیر واسطہ ہم سے تعلق نہیں  رکھتا