Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
384 - 764
عطا فرمائی اور اسلام کو تمام اَدیان پر غالب فرمادیا۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر گواہ کافی ہے۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴/۱۶۱، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۱۱۴۷، ملتقطاً)
	 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ کی وحدانیَّت کی گواہی دینا رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی گواہی دینا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ، کلمہ طیبہ میں  دونوں  سنتیں  جمع ہیں  ۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں  اور ان کے ساتھ والے کافروں  پر سخت ہیں  ا ور آپس میں  نرم دل تو انہیں  دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں  گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت اُن کے چہروں  میں  ہے سجدوں  کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں  ہے اور ان کی صفت انجیل میں  جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اُسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں  کو بھلی لگتی ہے تاکہ اُن سے کافروں  کے دل جلیں  اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں  ایمان اور اچھے کاموں  والے ہیں  بخشش اور بڑے ثواب کا۔