Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
380 - 764
وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: جب کہ کافروں  نے اپنے دلوں  میں  اَڑ رکھی وہی زمانۂ جاہلیت کی اَڑ تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اُتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ اُن پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب! یاد کریں )جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانہ جاہلیت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمادیا اورمسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
{اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ: جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانۂ جاہلِیَّت کی ہٹ دھرمی جیسی ہٹ دھرمی رکھی۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ وقت یاد کریں جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانۂ جاہلِیَّت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو مکے میں  داخل ہونے اور کعبہ مُعَظَّمہ کا طواف کرنے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اتارا جس کی برکت سے اُنہوں نے آئندہ سال آنے پر صلح کی، اگر وہ بھی کفارِ قریش کی طرح ضد کرتے تو ضرور جنگ ہوجاتی اور پرہیزگاری کا کلمہ ایمان والوں  پر لازم فرمادیا اور کافروں  کے مقابلے میں  مسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  اپنے دین اور اپنے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت سے مُشَرَّف فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کافروں  کا حال بھی جانتا ہے اور مسلمانوں  کی بھی کوئی چیز اس سے مَخفی نہیں ۔(روح البیان ، الفتح ، تحت الآیۃ : ۲۶ ، ۹/۴۹-۵۰ ، جلالین ، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۲۵، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴/۱۶۰، ملتقطاً)
پرہیز گاری کا کلمہ:
	 اس آیت میں  بیان ہواکہ اللہ تعالیٰ نے حُدَیْبِیَہ میں  شریک صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ پر پرہیزگاری کا کلمہ