Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
381 - 764
لازم فرمادیا،اس کلمے سے مراد ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ ہے اور اسے ’’تقویٰ‘‘ کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا کہ یہ تقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہونے کا سبب ہے۔( جلالین، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۲۵)
	حضر ت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، (حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے) فرمایا: میں  نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’ بے شک میں  وہ کلمہ جانتاہوں  جسے کوئی بندہ دل سے حق سمجھ کرکہتاہے تواللہ تعالیٰ اسے آگ پرحرام قرار دے دیتا ہے، تو (یہ سن کر) حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:میں  تمہیں  بتاتاہوں  کہ وہ کون ساہے ،وہ کلمہ اخلاص ہے جواللہ تعالیٰ نے نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے اَصحاب پرلازم کیاہے اوروہی پرہیز گاری کا کلمہ ہے جس کی ترغیب اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چچاابوطالب کوموت کے وقت دلائی،اوروہ اس بات کی شہادت دیناہے کہ اللہ  تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں  ۔( درمنثور، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷/۵۳۶)
آیت ’’فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
 (1)…حدیبیہ میں  شریک تمام حضرات مخلص مومن تھے، کیونکہ آیت میں  مذکور سکینہ سب پر اتر ا،تو اگر وہ بیعت ِ رضوان والے حضرات مومن نہ تھے تو پھر دنیا میں  مومن کون ہے؟
(2)… پرہیز گاری کا کلمہ یعنی ایمان اور اخلاص ان سے جدا ہو ہی نہیں  سکتا، اس میں  ان سب کے حسنِ خاتمہ کی یقینی خبر ہے کہ ان صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے دنیا میں  ،وفات کے وقت ،قبر میں  اور حشر میں  تقویٰ جدا نہ ہو سکے گا۔
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّۚ-لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَۙ-مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَۙ-لَا تَخَافُوْنَؕ-فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا(۲۷)