Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
372 - 764
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو بھیج دیا۔  (خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴/۱۵۰-۱۵۱، خزائن العرفان، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۴۳)
بیعت ِرضوان میں  شرکت کرنے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی فضیلت:
	اس بیعت میں  جن صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے شرکت فرمائی ،ا ن کی ایک فضیلت تو اسی آیت ِپاک میں  بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  خاص طور پر اپنی رضاسے نوازا اور دوسری فضیلت حدیث ِپاک میں  بیان ہوئی ہے، جیسا کہ حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اُن میں  سے کوئی بھی دوزخ میں  داخل نہ ہوگا۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ، ۵/۴۶۲، الحدیث: ۳۸۸۶)
آیت ’’لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	ا س آیت سے 4 مسئلے معلوم ہوئے 
(1)… بیعت ِرضوان میں  شرکت کرنے والے سارے ہی مخلص مومن ہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  کسی تخصیص کے بغیرمومن فرمایا۔
(2)…یہ بیعت کرنے والے تمام حضرات سے اللہ تعالیٰ خاص طور پر راضی ہو چکا ہے۔
(3)… اس خصوصی رضا کا سبب یہ بیعت ہے کہ ارشاد ہوا ’’ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ‘‘ جب وہ تمہاری بیعت کررہے تھے۔
(4)…بیعت ایمان کے سوا اعمال وغیرہ پر بھی ہونی چاہیے۔
وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور بہت سی غنیمتیں  جن کو لیں  اور اللہ عزت و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بہت سی غنیمتیں  جنہیں  وہ لیں  گے اور اللہ عزت والا، حکمت والا ہے۔
{وَ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا: اور بہت سی غنیمتیں  جنہیں  وہ لیں  گے۔} یعنی حدیبیہ میں  شرکت کرنے والوں  کو اللہ