اس لئے اس بیعت کو’’ بیعت ِرضوان‘‘ کہتے ہیں ۔ اس بیعت کا ظاہری سبب یہ پیش آیا کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اَشراف ِقریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ انہیں اس بات کی خبر دیں کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَیْتُ اللہ کی زیارت کے لئے عمرہ کے ارادے سے تشریف لائے ہیں اور آپ کا ارادہ جنگ کرنے کا نہیں ہے اوراِن سے یہ بھی فرمادیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں اُنہیں اطمینان دلادیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب فرمائے گا ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سردارانِ قریش کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں خبر دی۔ قریش اس بات پر مُتّفق رہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ مُعَظَّمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کرلیں ۔ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بغیرطواف کروں ۔اِدھر حدیبیہ میں موجود مسلمانوں نے کہا:حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ مُعَظَّمہ پہنچے اور طواف سے مُشَرّف ہوئے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے۔ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کے مطابق مکہ مکر مہ کے کمزور مسلمانوں کو فتح کی بشارت بھی پہنچائی ،پھر قریش نے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو روک لیا اور حدیبیہ میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ شہید کردیئے گئے ہیں ۔اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے کفار کے مقابلے میں جہاد پر ثابت قدم رہنے کی بیعت لی ،یہ بیعت ایک بڑے خار دار درخت کے نیچے ہوئی جسے عرب میں ’’سَمُرَہ ‘‘کہتے ہیں ۔ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا بایاں دست ِمبارک دائیں دست ِاَقدس میں لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیعت ہے اور دعا فرمائی : یا رب! عَزَّوَجَلَّ، عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تیرے اور تیرے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کام میں ہیں ۔
ا س واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نورِ نبوت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی۔ مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خوفزدہ ہوئے اور انہوں نے