سے اِعراض کرے گا اور کفر و نفاق پر ہی قائم رہے گا تو (اس کی سزا کے طور پر) اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں دردناک عذاب دے گا۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۱۵۰)
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو اُن کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اُتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کررہے تھے تو اللہ کووہ معلوم تھا جو ان کے دلوں میں تھا تو اس نے ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
{لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ: بیشک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا۔} حُدَیْبِیَہ میں حاضر ہونے سے پیچھے رہ جانے والوں کے اَحوال بیان کرنے کے بعد یہاں سے دوبارہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے تمہاری بیعت کررہے تھے اور جس چیز پر بیعت کر رہے تھے اس سے متعلق ان کے دلوں میں موجود صدق،اخلاص اور وفا سب اللہ تعالیٰ کومعلوم تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔اس سے خیبر کی فتح مراد ہے جو کہ حدیبیہ سے واپس آنے کے چھ ماہ بعد حاصل ہوئی۔(تفسیرکبیر، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰/۷۹، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴/۱۵۰-۱۵۱، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۱۱۴۴، ملتقطاً)
بیعت ِرضوان اور اس کا سبب :
حُدَیْبِیَہ کے مقام پر جن صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بیعت کی انہیں چونکہ رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی،