کیسی ہی محبت کا علاقہ ہو، جیسے تمھارے باپ ،تمھارے استاد،تمہارے پیر ،تمھارے بھائی ، تمھارے اَحباب، تمھارے اَصحاب،تمھارے مولوی ،تمھارے حافظ،تمھارے مفتی ،تمھارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کَسے باشَد ،جب وہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی شانِ اقدس میں گستاخی کریں ، اصلاً تمہارے قلب میں ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ رہے فوراً ان سے الگ ہوجاؤ ،دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، اُن کی صورت اُن کے نام سے نفرت کھاؤ، پھرنہ تم اپنے رشتے، علاقے، دوستی، اُلفت کا پاس کرو، نہ اس کی مَولَوِیَّت،شَیْخِیَّت، بزرگی ، فضیلت کو خطرے میں لاؤ کہ آخر میں یہ جو کچھ تھا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہی کی غلامی کی بنا ء پر تھا جب یہ شخص اُنھیں کی شان میں گستاخ ہوا پھرہمیں اس سے کیا علاقہ رہا، اس کے جُبّے عمامے پر کیا جائیں ، کیا بہتیرے (یعنی بہت سے) یہودی جبے نہیں پہنتے؟ عمامے نہیں باندھتے ؟ اس کے نام علم و ظاہری فضل کولے کر کیا کریں ، کیا بہتیر ے پادری ، بکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں بلکہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی، اُس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی، یا اسے ہربرے سے بدتر برانہ جانا، یااسے براکہنے پر برامانا،یا اسی قد ر کہ تم نے اس امر میں بے پرواہی منائی، یا تمہارے دل میں اُس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی تو لِلّٰہ! اب تمھیں انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان میں کہاں پاس ہوئے ،قرآن و حدیث نے جس پر حصولِ ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنی دورنکل گئے۔
مسلمانو!کیا جس کے دل میں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بدگو کی وقعت کرسکے گا اگر چہ اُس کا پیر یا استادیا پدرہی کیوں نہ ہو ، کیا جسے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فوراًسخت شدید نفرت نہ کرے گااگر چہ اس کا دوست ،یابرادر، یا پِسر ہی کیوں نہ ہو ، لِلّٰہ! اپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو، دیکھو وہ کیوں کر تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے، دیکھو رب عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:
’’لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-
تُو نہ پائے گا اُنہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ اورقیامت پر کہ اُن کے دل میں ایسوں کی محبت آنے پائے جنہوں نے خداو رسول سے مخالفت کی، چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی