Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
356 - 764
	 تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: ’’ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَ وُلْدِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنْ ‘‘ تم میں  کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں  اُسے اس کے ماں  باپ، او لاد اور سب آدمیوں  سے زیادہ پیارانہ ہوں ۔ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
	یہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم میں  انس بن مالک انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ہے۔( بخاری،کتاب الایمان،باب حبّ الرّسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الایمان،۱/۱۷،الحدیث: ۱۵، مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب محبّۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ص۴۲، الحدیث: ۷۰(۴۴)) اِس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ کسی کو عزیز رکھے، ہرگزمسلمان نہیں ۔
	مسلمانوکہو! مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تمام جہان سے زیادہ محبوب رکھنا مدارِ ایمان و مدارِنجات ہوایانہیں ۔ کہو ہوااور ضرور ہوا۔ یہاں  تک توسارے کلمہ گو خوشی خوشی قبول کرلیں  گے کہ ہاں  ہمارے دل میں  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِٖ وَسَلَّمَ کی عظیم عظمت ہے ۔ ہاں  ہاں  ماں  باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں  حضو ر کی محبت ہے۔ بھائیو!خدا ایسا ہی کرے مگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو۔
	تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’الٓمّٓۚ(۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ‘‘(عنکبوت:۱،۲)
کیا لوگ اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں  گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔
	یہ آیت مسلمانوں  کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی اِدِّعائے مسلمانی پرتمھارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں  ہاں  سنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں  پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شے کی آزمائش میں  یہی دیکھا جاتا ہے کہ جو باتیں  اس کے حقیقی واقعی ہونے کو درکار ہیں  وہ ا س میں  ہیں  یانہیں  ؟ ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں  ضرورہیں :
(1)… مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم ۔
(2)…اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔
	 تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں  سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی،