Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
358 - 764
اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘(مجادلہ:۲۲)
یاعزیزہی کیوں  نہ ہوں ، یہ ہیں  وہ لوگ جن کے دلوں  میں  اللہ نے ایمان نقش کردیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مددفرمائی اور انہیں  باغوں  میں  لے جائیگا ،جن کے نیچے نہریں  بہہ رہی ہیں ، ہمیشہ رہیں  گے ان میں ، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہی لوگ اللہ والے ہیں  ۔ سنتا ہے اللہ والے ہی مراد کو پہنچے۔
	اس آیت ِکریمہ میں  صاف فرمادیا کہ جو اللہ یا رسول کی جناب میں  گستاخی کرے،مسلمان اُس سے دوستی نہ کرے گا ، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بِالتَّصریح ارشاد فرمایا کہ باپ ،بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگِنا یا یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں  مُعَظَّم یا کیسا ہی تمھیں  بِالطَّبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اُس سے محبت نہیں  رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں  مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مَولٰی سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی  کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھامگردیکھو وہ تمہیں  اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی عظیم نعمتوں  کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اللہ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا، کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں  کیا کیا فائدے حاصل ہوں  گے۔
(1)…اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں  میں  ایمان نقش کردے گا ،جس میں  اِنْ شَائَ اللہ تَعَالٰی  حسن ِخاتمہ کی بشارتِ جلیلہ ہے کہ اللہ کا لکھا نہیں  مٹتا۔
(2)…اللہ تعالیٰ رُوح القدُس سے تمہاری مددفرمائے گا۔
(3)…تمہیں  ہمیشگی کی جنتوں  میں  لے جائے گاجن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں  ۔
(4)…تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔
(5)…منہ مانگی مرادیں  پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں  درجے افزوں ۔
(6)…سب سے زیادہ یہ کہ اللہ  تم سے راضی ہوگا۔