Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
355 - 764
’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘(فرقان:۲۳)
جوکچھ اعمال انہوں  نے کئے ، ہم نے سب برباد کر دیے۔
	ایسوں  ہی کو فرماتا ہے:
’’عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةً‘‘(غاشیہ:۳،۴)
عمل کریں ، مشقتیں  بھریں  اوربدلہ کیاہوگایہ کہ بھڑکتی آگ میں  پیٹھیں  گے۔
	وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی ۔
	مسلمانو!کہو مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم مدارِ ایمان ، مدارِنجات ،مدارِقبولِ اعمال ہوئی یا نہیں  ، کہو ہوئے اور ضرورہوئے۔
	تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ’’قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘(توبہ:۲۴)
اے نبی !تم فرمادوکہ اے لوگو!اگرتمہارے باپ ، تمھارے بیٹے ،تمھارے بھائی، تمھاری بیبیاں ،تمھارا کنبہ تمھاری کمائی کے مال او ر وہ سوداگری جس کے نقصان کا تمہیں  اندیشہ ہے اور تمھاری پسند کے مکان، ان میں  کوئی چیزبھی اگر تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں  کوشش کرنے سےزیادہ محبوب ہے تو انتظار رکھویہاں  تک کہ اللہ اپناعذاباتارے اور اللہ تعالیٰ بے حکموں  کو راہ نہیں  دیتا۔
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں  کوئی معزز،کوئی عزیز،کوئی مال،کوئی چیز، اللہ و رسول سے زیادہ محبوب ہو وہ بارگاہِ الٰہی سے مردود ہے ، اُسے اللہ اپنی طرف راہ نہ دے گا ،اُسے عذابِ الٰہی کے انتظار میں  رہنا چاہئے۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی ۔