پیارے بھائیو!السّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو اور آپ کے صدقے میں اس ناچیز،کَثِیْرُ السَّیِّئآت کو دین ِحق پر قائم رکھے اور اپنے حبیب مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی محبت ،دل میں سچی عظمت دے اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے ۔ اٰمِیْنْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔
تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ’’اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا‘‘(فتح:۸،۹)
اے نبی! بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ او رخوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو!تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو۔
مسلمانو! دیکھو دین ِاسلام بھیجنے ، قرآنِ مجید اتارنے کامقصود ہی تمہارے مولیٰ تبارک و تعالیٰ کاتین باتیں بتانا ہے:
اول یہ کہ لوگ اللہ و رسول پر ایمان لائیں ۔
دوم یہ کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کریں ۔
سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں رہیں ۔
مسلمانو!ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھو،سب میں پہلے ایمان کوفرمایا اور سب میں پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کو، اس لئے کہ بغیر ایمان، تعظیم بکار آمد نہیں ، بہتیر ے نصاری (یعنی بہت سے عیسائی ایسے) ہیں کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفعِ اعتراضاتِ کا فرانِ لئیم (یعنی کمینے کافروں کے اعتراضات دور کرنے) میں تصنیفیں کرچکے ،لکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے کچھ مفید نہیں کہ یہ ظاہری تعظیم ہوئی ،دل میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے، پھر جب تک نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی تعظیم نہ ہو عمر بھرعبادتِ الٰہی میں گزارے سب بیکارو مردود ہے، بہتیرے (یعنی بہت سے) جوگی اور ر اہب ترکِ دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکرو عبادتِ الٰہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں کہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر اَزانجاکہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم نہیں ،کیا فائدہ؟ اصلاً قابل ِقبول بارگاہِ الٰہی نہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسوں ہی کو فرماتا ہے: