صدیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے اور حفظِ جاں تو جان فُروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تُو نے اُن کو جان اِنھیں پھیر دی نماز پَر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فُروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے
الغرض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شاہکار تعظیم اور بے مثال ادب و احترام کیا کرتے تھے ،اللہ تعالیٰ ان کے ادب و تعظیم کا صدقہ ہمیں بھی حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
آیت ’’لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے4 مسئلے معلوم ہوئے ،
(1)… تمام مخلوق پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے۔
(2)… ہمارا ایمان حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت و شہادت پر مَوقوف ہے نہ کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایمان۔
(3)… اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :معلوم ہوا کہ دین و ایمان مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کا نام ہے،جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصلِ رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتا ہے۔(فتاوی رضویہ،۱۵/۱۶۸)
(4)… سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہروہ تعظیم جوخلاف ِشرع نہ ہو،کی جائے گی کیونکہ یہاں تعظیم و توقیر کے لئے کسی قسم کی کوئی قید بیان نہیں کی گئی،اب وہ چاہے کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھناہویاکوئی دوسرا طریقہ۔
مسلمانوں سے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک درخواست:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی ایک مشہور و معروف کتاب’’تمہید ِایمان‘‘ میں سورۂ فتح کی مذکورہ بالا دو آیات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مسلمانوں سے ایک درخواست کی ہے ،اس کی اہمیت کے پیش ِنظر یہاں ا س کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو،چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :