ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔(شفاء، القسم الثانی، الباب الثالث، فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ... الخ، ص۳۸، الجزء الثانی)
یہ تو ان کی اجتماعی تعظیم کا حال تھا اب اِنفرادی تعظیم پر مشتمل دو واقعات ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں روایت ہے کہ جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے حدیبیہ کے موقع پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو قریش کے پاس بھیجا توقریش نے حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو طوافِ کعبہ کی اجازت دے دی لیکن حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ’’ مَاکُنْتُ لِاَفْعَلَ حَتّٰی یَطُوْفَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہ وَسَلَّمَ‘‘میں اس وقت تک طواف نہیں کرسکتا جب تک کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طواف نہیں کرتے۔( شفاء، القسم الثانی، الباب الثالث، فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ... الخ، ص۳۹، الجزء الثانی)
(2)…غَزْوَہِ خیبر سے واپسی میں صہبا کے مقام پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نما زِ عصر پڑھی، اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے (کسی وجہ سے ابھی تک) نماز ِعصر نہ پڑھی تھی ،یہ اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اس خیال سے کہ زانو سَرکا تا ہوں تو کہیں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک نیند میں خَلل نہ آجائے ، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چشم ِمبارک کھلی تو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی نماز کا حال عرض کیا۔ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی توسورج پلٹ آیا، حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر سورج ڈوب گیا۔(شفاء،القسم الاول،الباب الرابع،فصل فی انشقاق القمر،ص۲۸۴،الجزء الاول،شواہدالنبوہ،رکن سادس،ص۲۲۰)
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کی خاطر عبادات میں سے افضل عبادت نماز اور وہ بھی درمیانی نماز یعنی نمازِ عصرقربان کردی ،نیزہجرت کے موقع پر یار ِغار حضرت ابوبکر صدیق ِاکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو جاں نثاری کی مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے اوران واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
مَولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطر کی ہے