Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
351 - 764
	ان آیات میں  دئیے گئے اَحکام سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و تعظیم انتہائی مطلوب ہے اور ان کا ادب و تعظیم نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  انتہائی سخت ناپسندیدہ ہے حتّٰی کہ اس پر سخت وعیدیں  بھی ارشاد فرمائی ہیں  ،اسی سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب وتعظیم کرنا شرک ہر گز نہیں  ہے ،جو لوگ اسے شرک کہتے ہیں  ان کا یہ کہنا مردود ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں  :
شرک ٹھہرے جس میں  تعظیمِ حبیب	اس بُرے مذہب پہ لعنت کیجئے
صحابہ ٔکرام ا ور تعظیم ِمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
	صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ وہ عظیم ہستیاں ہیں  جنہوں  نے اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اقدس سے اللہ تعالیٰ کے وہ اَحکام سنے جن میں  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام کرنے کا فرمایاگیا ہے،اسی لئے ان عالی شان ہستیوں  نے اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور ان کی بابرکت بارگاہ کے اد ب و احترام کی انتہائی شاندار مثالیں  رقم کی ہیں  اور اگرچہ انہیں  حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت کا فیض بہت زیادہ حاصل تھا، یونہی یہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے انتہائی شدید محبت بھی کرتے تھے اس کے باوجود تعظیم و توقیر میں  کوتا ہی اور تقصیر کے کبھی مُرتکِب نہیں  ہوتے تھے بلکہ ہمیشہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر میں  اضافہ ہی کرتے تھے ،جیسے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہترین اَلقاب کے ساتھ ، انتہائی عاجزی سے او ر آپ کے مرتبہ و مقام کی انتہائی رعایت کرتے ہوئے خطاب کرتے تھے اور جب کلام کرتے تو اس کی ابتداء میں  سلام کے بعد یوں  کہتے ’’فَدَیْتُکَ بِاَبِیْ وَ اُمِّیْ‘‘ میرے ماں  باپ بھی آپ پر فدا ہوں ،یایوں  کہتے ’’ بِنَفْسِیْ اَنْتَ یَارَسُوْل! ‘‘ میری جان آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نثار ہے۔
	حضرت اسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ میں  بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضر ہو ا تو دیکھا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گرد اس طرح (ساکِن)بیٹھے ہوئے تھے گویا