(7)…حُجروں کے باہر سے پکارنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بے عقل فرمایا اور انہیں تعظیم کی تعلیم دی،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(حجرات:۴،۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(8)…رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گھر میں اجازت کے بغیر نہ جاؤ اور وہاں زیادہ دیر نہ بیٹھو،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ- وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّؕ-وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا‘‘(احزاب:۵۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے۔ یوں نہیں کہ خود ہی اس کے پکنے کاانتظار کرتے رہو۔ ہاں جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ پھرجب کھانا کھا لوتو چلے جاؤ اور یہ نہ ہو کہ باتوں سے دل بہلاتے ہوئے بیٹھے رہو۔ بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں شرماتا نہیں اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہرسے مانگو ۔ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کیلئے یہ زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو ۔بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔