کہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں ،دوسرا مقصد یہ ہے کہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر کریں ،تیسرا مقصد یہ ہے کہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کریں ۔ پہلا مقصد تو واضح ہے جبکہ دوسرے مقصد کے بارے میں بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں آیت میں تعظیم و توقیر کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے یعنی تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور توقیر کرو، البتہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر کرنا ہے۔ تیسرے مقصد کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے سے مراد اِن اوقات میں ہر نقص و عیب سے اس کی پاکی بیان کرنا ہے، یا صبح کی تسبیح سے مراد نمازِ فجر اور شام کی تسبیح سے باقی چاروں نمازیں مراد ہیں ۔ (مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۱۴۱، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۱۴۶-۱۴۷، ملتقطاً)
رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کرنے والے کامیاب ہیں:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر انتہائی مطلوب اور بے انتہاء اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح پر اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر کو مُقَدَّم فرمایا ہے اور جو لوگ ایمان لانے کے بعدآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کرتے ہیں ان کے کامیاب اور بامُراد ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘(اعراف:۱۵۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔
قرآن اور تعظیم ِحبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
دنیا کے شہنشاہوں کا اصول یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے دربار کے آداب خود بناتا ہے اور جب وہ چلا جاتاہے تو اپنی تعظیم و ادب کے نظام کو بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن کائنات