اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :بیشک ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتاکہ جو تمھاری تعظیم کرے اُسے فضلِ عظیم کی بشارت دو اور جو مَعَاذَاللہ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذابِ اَلیم کا ڈر سناؤ، اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار، تو بہت مناسب ہواکہ امت کے تمام افعال واقوال واعمال واحوال اُن کے سامنے ہوں (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایاہے جیساکہ) طبرانی کی حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’اِنَّ اللہ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُاِلَیْھَا وَاِلٰی مَاھُوَکَائِنٌ فِیْھَااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ھٰذِہٖ ‘‘بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں دیکھ رہاہوں اُسے اور جو اس میں قیامت تک ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہاہوں ۔ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،( کنز العمال بحوالہ طبرانی ، کتاب الفضائل ، قسم الافعال ، الباب الاول ، ۶ / ۱۸۹ ، الجزء الحادی عشر ، الحدیث: ۳۱۹۶۸، فتاوی رضویہ، ۱۵/۱۶۸)
لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹)
ترجمۂکنزالایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔
{لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شاہد،مُبَشِّر اور نذیر بنا کر بھیجنے کے گویا 3 مَقاصِد بیان فرمائے ہیں ،پہلا مقصد یہ ہے