میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالَم ہی نرالا ہے کہ ا س کی تعظیم اور اس کی بارگاہ میں ادب واحترام کے اصول و قوانین نہ اس نے خود بنائے ہیں اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی اور نے بنائے ہیں بلکہ اس کی تعظیم کے احکام اوراس کے دربار کے آداب تمام شہنشاہوں کے شہنشاہ،تما م بادشاہوں کے بادشاہ اور ساری کائنات کو پیدا فرمانے والے رب تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں اور بہت سے قوانین ایسے ہیں جو کسی خاص وقت تک کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقرر فرمائے ہیں اور وہ عظیم شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِگرامی ہے ، جن کی تعظیم و توقیر کرنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور قرآنِ مجید میں آپ کی تعظیم اور ادب کے باقاعدہ اصول اور احکام بیان فرمائے ، یہاں اس شہنشاہ کے ادب و تعظیم کے اَحکام پر مشتمل قرآنِ مجید کی 9آیات ملاحظہ ہوں جن میں اللہ تعالیٰ نے متعدد اَحکام دئیے ہیں ،
(1)…حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بھی بلائیں فورا ًان کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ‘‘(انفال:۲۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔
(2)…بارگاہِ رسالت میں کوئی بات عرض کرنے سے پہلے صدقہ دے لو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(مجادلہ:۱۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے پھر اگر تم (اس پر قدرت)نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
بعد میں وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا تھا۔