ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ ہی کی مِلک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اور اللہ عزت و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکراللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور اللہ عزت والا، حکمت والا ہے۔
{وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کی مِلکیَّت میں ہیں ۔} بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جب صلحِ حدیبیہ ہوگئی تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا محمد (مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ گمان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے اہلِ مکہ سے صلح کر لی یا مکہ کوفتح کرلیا توان کاکوئی دشمن باقی نہیں رہے گا(اگر ایسی بات ہے )تو فارس اورروم کدھرجائیں گے ؟تب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِمبارکہ نازل فرمائی کہ آسمانوں اور زمین کے تمام لشکروں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ فارس و رُوم کے لشکروں سے بہت زیادہ ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ ان میں سے جس لشکر کے ذریعے چاہے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ایمان والوں کے دشمن (اور اس)کی سازش کودور فرما دے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ غالب ہے تو اس کے عذاب کو کوئی دور نہیں کر سکتا اور وہ اپنی تدبیر میں حکمت والا ہے ۔( قرطبی، الفتح، تحت الآیۃ: ۷، ۸/۱۹۱، الجزء السادس عشر، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۱۴۱، ملتقطاً)
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا۔
{اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک ہم نے آپ کو اپنی امت کے اَعمال اور اَحوال کا مشاہدہ فرمانے والا بنا کر بھیجا تاکہ آپ قیامت کے دن ان کی گواہی دیں اور دنیا میں ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو جنت کی خوشخبری دینے والااور کافروں ، نافرمانوں کو جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کربھیجا ہے۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۱۴۶)