تعالیٰ اپنی دُنْیَوی اور دینی نعمتیں آپ پر تمام کردے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ آپ کو رسالت کی تبلیغ اور ریاست میں اصول و قوانین قائم کرنے میں سیدھی راہ دکھادے اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست مدد فرمائے اور دشمنوں پر کامل غلبہ عطا فرمائے۔( بیضاوی، الفتح، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۵/۲۰۰، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴/۱۴۵، ملتقطاً)
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ-وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اُتارا تاکہ اُنہیں یقین پر یقین بڑھے اور اللہ ہی کی مِلک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ ان کے یقین پر یقین میں اضافہ ہو اورآسمانوں اور زمین کے تمام لشکراللہ ہی کی ملک ہیں اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔
{هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا۔} اس سے پہلی آیت میں مدد فرمانے کا ذکر ہوا اور اس آیت میں مدد کی صورت بیان کی جارہی ہیں ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی صلح اور امن کے ذریعے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ ان کے یقین میں مزید اضافہ ہو جائے اور عقیدہ راسخ ہونے کے باوجود نفس کو اطمینان حاصل ہو اور یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے جنگ وغیرہ کے دوران ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے اور یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر جیسے فرشتے اور ساری مخلوقات اللہ تعالیٰ ہی کی مِلک ہیں اور وہ اس پر قادر ہے کہ جس سے چاہے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد فرمائے