ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا انعام تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے۔ اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے۔
{لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ: تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے۔} اس سے پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ’’ہم نے آپ کے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا‘‘اور اس آیت سے فتح کا فیصلہ فرما دینے کی عِلَّت بیان کی جا رہی ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کے لئے روشن فتح کا فیصلہ فرما دیا تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے صدقے آپ کے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور آپ کی بدولت امت کی مغفرت فرمائے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آیت ِمبارکہ کے اس حصے سے متعلق فتاویٰ رضویہ میں بہت تفصیل سے کلام فرمایاہے ،اس میں سے ایک جز کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’سورہِ فتح کی اس آیت ِکریمہ میں موجود لفظ ’’لَکَ‘‘ میں لام تعلیل کا ہے اور ’’مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ‘‘ سے مراد’’تمہارے اگلوں کے گناہ‘‘ ہے اور اگلوں سے میری مراد سیّدنا عبداللہ اورسیّدتنا آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے لے کر نسب ِکریم کی انتہاء تک تمام آبائے کرام اور اُمّہاتِ طیّبات مراد ہیں ،البتہ ان میں سے جو انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جیسے حضرت آدم ،شیث،نوح،خلیل اور اسماعیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، وہ اس سے مُستَثنیٰ ہیں ،اور ’’مَا تَاَخَّرَ‘‘ سے مراد’’تمہارے پچھلے‘‘ یعنی ’’قیامت تک تمہارے اہلِ بیت اور امتِ مرحومہ ‘‘مراد ہے،تو آیت ِکریمہ کا حاصل یہ ہوا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح ِمبین فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سبب سے بخش دے تم سے تعلق رکھنے والے سب اگلوں پچھلوں کے گناہ۔( فتاوی رضویہ، ۲۹/۴۰۱، ملخصاً)
نوٹ:اس آیت ِمبارکہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ، جلد29، صفحہ 394 تا 401 کا مطالعہ فرمائیں ۔
{وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ: اور اپنا انعام تم پر تمام کردے۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے فتح کا جو فیصلہ فرمایا اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ