نہیں اُٹھا سکتا۔ عُروَہ نے قریش سے جا کر یہ سب حال بیان کیا اور کہا: میں فارس ، روم اور مصر کے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں ، میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُن کے اصحاب میں ہے ،مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکو گے۔ قریش نے کہا ایسی بات مت کہو، ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے وہ اگلے سال آئیں ۔ عُروَہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کوئی مصیبت پہنچے گی۔ یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرف بہ اسلام کیا۔ اسی مقام پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بیعت لی، اسے ’’بیعتِ رضوان‘‘ کہتے ہیں ۔ بیعت کی خبر سے کفار خوف زدہ ہوئے اور ان کے رائے دینے والوں نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور آئندہ سال حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں کے حق میں بہت نفع مند ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی، اسی لئے اکثر مفسّرین فتح سے صلحِ حدیبیہ مراد لیتے ہیں اور بعض مفسّرین وہ تمام اسلامی فتوحات مراد لیتے ہیں جو آئندہ ہونے والی تھیں جیسے مکہ، خیبر، حنین اور طائف وغیرہ کی فتوحات۔اس صورت میں یہاں فتح کوماضی کے صیغہ سے اس لئے بیان کیاگیا کہ ان فتوحات کا وقوع یقینی تھا۔( خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۱۴۴، روح البیان، الفتح، تحت الآیۃ: ۱، ۹/۳-۷ جلالین مع صاوی، الفتح، تحت الآیۃ: ۱، ۵/۱۹۶۵-۱۹۶۶، ملتقطاً)
لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ(۲) وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا(۳)
ترجمۂکنزالایمان: تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے۔ اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے۔