ہوئے اور کوئی قصر کئے ہوئے تھا ،نیز آپ کعبۂ معظمہ میں داخل ہوئے، کعبہ کی چابی لی، طواف فرمایا اورعمرہ کیا۔نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو اس خواب کی خبر دی تو سب خوش ہوئے۔ پھر حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور1400 صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ ذی القعدہ کی پہلی تاریخ،سن 6 ہجری کو روانہ ہوگئے اور ذوالحُلَیْفَہ میں پہنچ کر وہاں مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں ، عمرہ کا احرام باندھا اور حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اکثرصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بھی احرام باندھا۔ بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے جُحْفَہ سے احرام باندھا ۔راستے میں پانی ختم ہوگیا تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: لشکر میں پانی بالکل باقی نہیں ہے،صرف حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے برتن میں تھوڑا ساپانی بچا ہے۔ حضورِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے برتن میں دستِ مبارک ڈالا تو مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جوش مارنے لگے، پھر سارے لشکر نے پانی پیا اوروضوکیا۔جب مقامِ عُسفان میں پہنچے تو خبر آئی کہ کفارِ قریش بڑے سازو سامان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں ۔ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو پھر پانی ختم ہوگیا حتی کہ لشکر والوں کے پاس ایک قطرہ نہ رہا، اوپر سے گرمی بھی بہت شدید تھی۔رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کنوئیں میں کلی فرمائی تو اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھر گیا ،پھر سب نے وہ پانی پیا اور اونٹوں کو پلایا۔
یہاں کفارِ قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کے لئے کئی شخص بھیجے گئے اور سب نے جا کر یہی بیان کیا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عمرہ کے لئے تشریف لائے ہیں ،جنگ کا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن انہیں یقین نہ آیا توآخر کار انہوں نے عُرْوَہْ بن مسعود ثَقَفِی کو حقیقت حال جاننے کے لئے بھیجا،یہ طائف کے بڑے سردار اور عرب کے انتہائی مالدار شخص تھے ، اُنہوں نے آکر دیکھا کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دستِ مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ تَبَرُّک کے طور پر غُسالَہ شریف حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔اگر کبھی لعابِ دہن ڈالتے ہیں تو لوگ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کو وہ حاصل ہوجاتا ہے وہ اپنے چہرے اور بدن پر برکت کے لئے مل لیتا ہے، جسمِ اقدس کا کوئی بال گرنے نہیں پاتا اگر کبھی جدا ہوا تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ،جب حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کلام فرماتے ہیں تو سب خاموش ہوجاتے ہیں ۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ادب و تعظیم کی وجہ سے کوئی شخص اوپر کی طرف نظر