رہے تھے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو بہت حزن وملال تھا اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حدیبیہ میں اونٹ نحر فرما دیا تھا، (جب یہ آیات نازل ہوئیں ) تو ارشاد فرمایا: ’’مجھ پرایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔( مسلم، کتاب الجہاد والسّیر، باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ، ص۹۸۷، الحدیث: ۹۷(۱۷۸۶))
ترمذی شریف کی روایت میں ہے،حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ سے واپسی پرنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پریہ آیت نازل ہوئی ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ آج مجھ پرایسی آیت نازل ہوئی ہے جومجھے روئے زمین پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ،پھرنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی توانہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کومبارک ہو،بیشک اللہ تعالیٰ نے بیان فرمادیاکہ آپ کے ساتھ کیامعاملہ کیاجائے گالیکن (ابھی تک یہ بیان نہیں فرمایا گیاکہ) ہمارے ساتھ کیاکیاجائے گا؟ پھرحضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘(فتح:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ وہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو ان باغوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے اورتاکہ اللہ ان کی برائیاںان سے مٹادے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الفتح، ۵/۱۷۶، الحدیث: ۳۲۷۴)
صلح حدیبیہ کا مختصر واقعہ:
اس آیت میں جس فتح کی بشارت دی گئی اس سے کون سی فتح مراد ہے ،اس کے بارے میں مفسّرین کے مختلف اقوال ہیں ،اکثر مفسّرین کے نزدیک اس سے صلحِ حدیبیہ کی فتح مراد ہے ۔حدیبیہ مکہ ٔمکرمہ کے نزدیک ایک کنواں ہے اور اس سارے واقعہ کا مختصرخلاصہ یہ ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ہمراہ امن کے ساتھ مکہ ٔمکرمہ میں داخل ہوئے،ان میں سے کوئی حلق کئے