سورۂ محمد کے ساتھ مناسبت:
سورۂ فتح کی اپنے سے ما قبل سورت ’’سورۂ محمد‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ محمدمیں جہاد کی کیفیت بتائی گئی کہ جب کفار سے معرکہ آرائی ہو تو انہیں قتل کیاجائے اور جو قتل ہونے سے بچ جائیں انہیں قید کر لیا جائے اور سورۂ فتح میں اس کیفیت کا نتیجہ اور ثمرہ بیان کیا گیا کہ اس طرح کرنے سے مدد اور فتح حاصل ہو گی ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں مسلمانوں ،مشرکوں اور منافقوں کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرمادی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔
{اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔} اس آیت میں صرف نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا گیا ہے اور ا س کا معنی یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک ہم نے آپ کے لئے ایسی فتح کا فیصلہ فرما دیاہے جو انتہائی عظیم ،روشن اور ظاہر ہے۔
شانِ نزول:حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جب ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘ سے لے کر ’’فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘ تک آیات نازل ہوئیں ا س وقت حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حدیبیہ سے واپس لوٹ