Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
334 - 764
(2)…بخل ملامت اور رسوائی کا ذریعہ ہے۔
(3)…بخل خونریزی اور فساد کی جڑ اور ہلاکت وبربادی کا سبب ہے ۔
(4)…بخل ظلم کرنے پر ابھارتا ہے۔
(5)…بخل کرنے سے رشتہ داریاں  ٹوٹتی ہیں  ۔
(6)…بخل کرنے کی وجہ سے آدمی مال کی برکت سے محروم ہوجاتا ہے۔
	اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنی راہ میں  مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بخل جیسی بد ترین باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
{وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا: اور اگر تم منہ پھیرو گے۔} علامہ احمدصاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :آیت کے اس حصے میں  صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے خطاب ہے(اگر ایسا ہے) تو (یہ تبدیلی بالفعل حاصل نہیں  ہوئی بلکہ) اس سے مقصود محض ڈرانا ہے کیونکہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ (کو یہ مقام حاصل ہے کہ ان) کے بعد کوئی شخص بھی ان کے رتبے تک نہیں  پہنچ سکتا اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں  کہ اس کا وقوع بھی ہو (یعنی جیسے کوئی اپنے نوکر سے کہے کہ اگر تم نے صحیح کام نہ کیا تو میں  تمہیں  نوکری سے نکال دوں  گا تو اس کہنے کے بعد ضروری نہیں  کہ نوکر غلط کام ضرور کرے گابلکہ یہ محض سمجھانا تھا)۔ یا یہاں  خطاب منافقوں  سے ہے،(اگر ایسا ہے) تو یہ تبدیلی بالفعل ہوئی ہے (اور ان کی جگہ دوسرے لوگ آئے ہیں  جو ان جیسے نہ تھے بلکہ مخلص اور انتہائی اطاعت گزار مومن تھے۔)( صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۵/۱۹۶۴)