خرچ کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں غربت کا خاتمہ ہوا اورمسلمانوں نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا اور اسلام کے آخری زمانے میں بھی ایک وقت ایسا آئے گا جس میں مسلمان اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ ان میں بڑی مشکل سے زکوٰۃ لینے والا ملے گا، جیسا کہ حضرت حارِثَہ بن وَہْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ملے گا۔آدمی کہے گا: اگر تم کل لاتے تو میں لے لیتا لیکن آج مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔( بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصّدقۃ قبل الرد، ۱/۴۷۶، الحدیث: ۱۴۱۱)
آج بھی اگرہمارے معاشرے کے مالدار مسلمان اپنی زکوٰۃ ہی صحیح طورپراپنے ملک کے غریبوں کودے دیں توشاید اس ملک میں کوئی غریب نہ رہے اورغربت کے باعث آج معاشرے میں جوبدامنی پھیلی ہوئی ہے وہ ختم ہوجائے اورپوراملک امن وسکون کاگہوارہ بن جائے ۔
بخل کرنے کا دینی اور دنیوی نقصان:
بخل کرنے کے بہت سے دینی اور دنیوی نقصانات ہیں ،ہم یہاں اس کے 5 دینی اور 6 دنیوی نقصانات ذکر کرتے ہیں تاکہ لوگ بخل کرنے سے بچیں ،چنانچہ ا س کے دینی نقصانات یہ ہیں
(1)…بخل کرنے والا کبھی کامل مومن نہیں بن سکتا بلکہ کبھی بخل ایمان سے بھی روک دیتا ہے اور انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے ،جیسے قارون کو اس کے بخل نے کافر بنا دیا۔
(2)…بخل کرنے والا گویا کہ اس درخت کی شاخ پکڑ رہا ہے جو اسے جہنم کی آگ میں داخل کر کے ہی چھوڑے گی۔
(3)…بخل کی وجہ سے جنت میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
(4)…بخل کرنے والا مال خرچ کرنے کے ثواب سے محروم ہوجاتا اور نہ خرچ کرنے کے وبال میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
(5)…بخل کرنے والا حرص جیسی خطرناک باطنی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور اس پر مال جمع کرنے کی دھن سوار جاتی ہے اور ا س کیلئے وہ جائز ناجائز تک کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
اور بخل کے دنیوی نقصانات یہ ہیں :
(1)…بخل آدمی کی سب سے بدتر خامی ہے۔