Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
335 - 764
سورۂ فتح
سورۂ فتح کاتعارف
مقامِ نزول:
	 سورۂ فتح مدینۂ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	 اس میں  4رکوع، 29آیتیں  ،568 کلمے اور 2559حروف ہیں ۔
’’ فتح ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	 اس سورتِ مبارکہ کی پہلی آیت میں حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روشن فتح کی بشارت دی گئی ، اس مناسبت سے اس سورئہ مبارکہ کانام ’’سورۂ فتح‘‘ ہے ۔ 
سورۂ فتح کی فضیلت:
	حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :ایک سفر کے دوران میں  نے حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہو کر سلام عرض کیا ،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں  سے زیادہ پیاری ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے،پھر آپ نے(اس سورت کی) یہ آیت تلاوت فرمائی:
’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔
( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ الفتح، ۳/۴۰۶، الحدیث: ۵۰۱۲)
سورۂ فتح کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  صلحِ حدیبیہ کا واقعہ بیان کیاگیاہے اور مسلمانوں  کو یہ بشارت دی