Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
332 - 764
جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب     محتاج ہو اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل دے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں  گے۔
{هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ: ہاں  ہاں  یہ تم ہو جوبلائے جاتے ہو۔} ارشاد فرمایا کہ ہاں  ہاں ،تم لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  وہاں  خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے جہاں  خرچ کرنا تم پر ضروری ہے تو تم میں  کوئی صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں  بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے کیونکہ وہ خرچ کرنے کے ثواب سے محروم ہو جائے گا اور بخل کرنے کا نقصان اٹھائے گا ، اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات اور طاعات سے بالکل بے نیاز ہے اور تم سب اس کے فضل و رحمت کے     محتاج ہو تو وہ تمہیں  جو بھی حکم دیتا ہے تمہارے فائدے کے لئے ہی دیتا ہے،اگر تم اس پر عمل کرو گے تو نفع اٹھاؤ گے اور نہیں  کرو گے تو نقصان بھی تمہیں  ہی ہو گا اور یاد رکھو! اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہیں  ہلاک کر دے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں  کو پیدا کر دے گا پھر وہ تم جیسے نافرمان نہ ہوں  گے بلکہ انتہائی اطاعت گزار اورفرمانبردار ہوں  گے ۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۴/۱۴۳، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۱۱۳۸-۱۱۳۹، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۸/۵۲۵-۵۲۷، ملتقطاً)
فرض جگہ پر مال خرچ کرنے کا دینی اور دنیوی فائدہ :
	یاد رہے کہ بعض مقامات پر مال خرچ کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا ہے جیسے حقدار کو زکوٰۃ دینا، اور یہ اس وجہ سے ہر گز نہیں  ہے کہ اللہ  تعالیٰ کو لوگوں  کے مال کی حاجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام حاجتوں  سے بے نیاز ہے بلکہ بندے ہی ہر طرح سے اس کے     محتاج ہیں  اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو مال خرچ کرنا فرض فرمایا اس میں  بندوں  کا ہی دینی اور دنیوی فائدہ ہے ،دینی فائدہ تو یہ ہے کہ مال خرچ کرنے کی صور ت میں  وہ ثواب کے حقدار ٹھہریں  اور نہ خرچ کرنے کے وبال سے بچ جائیں  گے جبکہ دنیوی فائدہ یہ ہے کہ اگراپنے معاشرے کے غریب اورمَفْلُوکُ الحال لوگوں  کوزکوٰۃ ملے گی تو انہیں  معاشی سکون نصیب ہو گا،معاشرے سے غربت اور محتاجی کا خاتمہ ہو گا۔اسلام کے ابتدائی زمانے میں  ایک دور ایسا آچکا ہے جس میں  مالدار مسلمان اسلام کے احکام پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے اپنی زکوٰۃ وغیرہ غریب مسلمانوں  پر خوب