کافروں کے خلاف جہاد کرو جو اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی دشمن ہیں اور دنیوی زندگی کی رغبت تمہیں جہاد چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کیونکہ دنیا کی زندگی تو کھیل کود کی طرح ہے اور یہ اتنی جلد گزر جاتی ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا، لہٰذا اس میں مشغول ہونا کچھ بھی نفع مند نہیں ہے۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’اے لوگو اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے ایمان اور پرہیزگاری کا ثواب عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے لئے تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا کیونکہ وہ غنی اوربے نیاز ہے ،البتہ تمہیں راہِ خدا میں کچھ مال خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں اس کا ثواب ملے ۔ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور زیادہ طلب کرے توتم میں سے اکثر اس کی اطاعت کرنے کی بجائے بخل کرنے لگیں گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے کھوٹ کوظاہر کردے گا کیونکہ انسان فطری طور پر مال سے محبت کرتا ہے اور جس سے اس کی محبوب چیز لے لی جائے تو اس کے دل میں موجود باتیں ظاہر ہوجاتی ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان پر ایسے احکام نافذ نہیں فرماتا جنہیں پورا کرناانتہائی دشوار ہو۔( تفسیر طبری، محمد،تحت الآیۃ:۳۶-۳۷،۱۱/۳۲۸، خازن،محمد، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۴/۱۴۳، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ص۱۱۳۸، صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۵/۱۹۶۳-۱۹۶۴، ملتقطاً)
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ا ور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں ہاں یہ تم ہوجو بلائے جاتے ہو تاکہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور