شامل ہیں اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے اعمال باطل کر دے گا اور ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا تو تم دشمن کے مقابلے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور کفار کو خود صلح کی طرف دعوت نہ دو کیونکہ اس میں ذلّت ہے اوران سے جنگ کرو،اس میں تم ہی ان پر غالب ہو گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور نصرت سے تمہارے ساتھ ہے تو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہی غالب آئے گا اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا بلکہ تمہیں اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴/۱۴۲-۱۴۳، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸/۵۲۳، ملتقطاً)
اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْــٴَـلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ(۳۶)اِنْ یَّسْــٴَـلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِ جْ اَضْغَانَكُمْ(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا۔اگر اُنہیں تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تمہیں تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا۔ اگر اللہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور زیادہ طلب کرے توتم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے کھوٹ کوظاہر کردے گا۔
{اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے۔} اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی ہمّت بڑھا کر انہیں جہاد کی ترغیب دی گئی اور اب اس آیت سے دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی بیان فرما کر جہاد کرنے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!