ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ انہیں ہرگزنہیں بخشے گا۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کفر کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچانے والے راستے سے روکا،پھر وہ کفر کی حالت میں ہی مر گئے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں ہر گز ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا کیونکہ وہ کفر پر مرے ہیں تو اسی کے مطابق ان کا حَشْر ہو گا۔
مفسّرین کا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت قُلَیب والوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔ قلیب بدر میں ایک کنواں ہے جس میں ابو جہل اور اس کے ساتھ دیگر مقتول کفار ڈالے گئے تھے،البتہ اس آیت کا حکم ہراس کافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی ہر گز مغفرت نہ فرمائے گا۔( روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۳۴، ۸/۵۲۳، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۳۴، ۴/۱۴۲، ملتقطاً)
فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﳓ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: تو تم سُستی نہ کرو اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔
{فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو۔} یہاں آیت میں اگرچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے خطاب فرمایا جارہا ہے لیکن اس حکم میں تمام مسلمان