Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
321 - 764
کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ منافق لوگ اپنی زندگی میں سازشیں  کر رہے ہیں تو ا س وقت ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس آئیں  گے اور وہ ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں  پر لوہے کے گُرزوں  سے ضربیں  مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں  گے۔ان کی اس ہولناک طریقے سے روح قبض کرنااس لیے ہے کہ انہوں  نے ا س بات کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہے اوراس چیز کو ناپسند کیا جس میں  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام نیک اعمال ضائع کردئیے جو انہوں  نے ایمان کی حالت میں  کئے تھے اور یہ چیز ان کے لئے سزا کا باعث بنی ۔
	مفسّرین فرماتے ہیں  کہ یہاں  اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی بات سے مرادلوگوں  کو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد میں  جانے سے روکنا اور کافروں  کی مدد کرنا ہے ۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ وہ بات تورات کے ان مضامین کو چھپانا ہے جن میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت شریف ہے ۔
	اورجس چیز میں  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے اس سے مرادایمان وطاعت ، مسلمانوں  کی مدد اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد میں  حاضر ہونا ہے۔( روح البیان ، محمد ، تحت الآیۃ : ۲۷ - ۲۸ ، ۸/۵۱۹، ابن کثیر، محمد، تحت الآیۃ: ۲۷، ۷/۲۹۶، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸، ۴/۱۴۱، ملتقطاً)
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِ جَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: کیا جن کے دلوں  میں  بیماری ہے اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اللہ  ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا جن کے دلوں  میں  بیماری ہے وہ اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اللہ ان کے چھپے ہوئے بغض و کینے کو ظاہر نہ فرمائے گا۔
{اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ: جن کے دلوں  میں  بیماری ہے۔} یعنی وہ لوگ جن کے دلوں  میں  نفاق کی بیماری ہے کیا