{ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا: یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کہا۔} یعنی ایمان سے کفر کی طرف پھر جانا اس لیے ہے کہ منافقوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قرآن اور دین کے احکام کو ناپسند کرنے والے یہودیوں سے پوشیدہ طور پر یہ کہا:بعض کاموں جیسے محمد ِمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عداوت اور حضور کے خلاف ان کے دشمنوں کی امداد کرنے اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ۔انہوں نے یہ بات اگرچہ خفیہ طور پر کہی لیکن اللہ تعالیٰ ان کی چھپی ہوئی ان سب باتوں کو جانتا ہے جو وہ یہودیوں سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی خبر بھی دے دی ہے۔( روح البیان ، محمد ، تحت الآیۃ : ۲۶ ، ۸ / ۵۱۹ ، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴/۱۴۱، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۱۱۳۷، ملتقطاً)
فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ(۲۷)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو کیسا ہوگا جب فرشتے اُن کی روح قبض کریں گے اُن کے منہ اور اُن کی پیٹھیں مارتے ہوئے۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے اور اس کی خوشی انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردئیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں گے۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کو ناراض کرنے والی بات کی پیروی کی اور انہوں نے اللہ کی خوشنودی کو پسند نہ کیا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔
{فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔} اس آیت اور اس