Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
322 - 764
وہ اس گُھمنڈ میں  ہیں  کہ اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف ان کے دلوں  میں  موجود نفرت و عداوت کو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں  کے سامنے ظاہر نہیں  فرمائے گا اور ان کے معاملات اسی طرح چھپے رہیں  گے، ایسا نہیں  ہے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں  رسوا فرمائے گا اور ان کا پردہ فاش فرما دے گا۔( روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۲۹، ۸/۵۲۰، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۳۷، ملتقطاً)
وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْؕ-وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ(۳۰)وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَۙ-وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم چاہیں  تو تمہیں  ان کو دکھادیں  کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو اور ضرور تم انہیں  بات کے اسلوب میں  پہچان لو گے اور اللہ  تمہارے عمل جانتا ہے۔اور ضرور ہم تمہیں  جانچیں  گے یہاں  تک کہ دیکھ لیں  تمہارے جہاد کرنے والوں  اور صابروں  کو اور تمہاری خبریں  آزمالیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں  وہ منافقین دکھادیتے تو تم انہیں  ان کی صورت سے پہچان لیتے اور ضرور تم انہیں  گفتگو کے انداز میں  پہچان لو گے اور اللہ  تمہارے اعمال جانتا ہے۔اور ضرور ہم تمہیں  آزمائیں گے یہاں  تک کہ ہم تم میں  سے جہاد کرنے والوں  اور صبرکرنے والوں  کودیکھ لیں  اور تمہاری خبریں  آزمالیں ۔
{وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ: اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں  وہ منافقین دکھادیتے ۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم چاہتے تو آپ کو دلائل اور علامات کے ذریعے ان منافقوں  کی پہچان کروا دیتے یہاں  تک کہ آپ انہیں  ان کی صورت سے ہی پہچان لیتے۔
	 حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے سورہِ براء ت میں  اپنے حبیب