Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
319 - 764
نے انہیں  فریب دیا اور انہیں  (لمبی لمبی) امیدیں  دلائیں ۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو اپنے پشت پیچھے پلٹ گئے۔} یعنی جو لوگ ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ایمان سے کفر کی طرف پلٹ گئے انہیں  شیطان نے دھوکہ دیا اور ان کی نظر میں  برائیوں  کو ایسا مزین کیا کہ وہ انہیں  اچھا سمجھنے لگے اور انہیں  دنیا میں  مدتوں  رہنے کی امید دلائی کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔
	حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  اس آیت میں  اہلِ کتاب کے ان کفار کا حال بیان کیا گیا ہے جنہوں  نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں  دیکھی ، پھر جاننے پہچاننے کے باوجود کفر اختیار کیا ۔
	 حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا، ضَحَّاک اور مُفسِّرسُدِی کا قول ہے کہ ان لوگوں  سے مراد منافق ہیں  جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴/۱۴۱)
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِۚۖ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ اُنہوں  نے کہا ان لوگوں  سے جنہیں  اللہ کا اتارا ہوا ناگوار ہے ایک کام میں  ہم تمہاری مانیں  گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کرنے والوں  سے کہا: کسی کام میں  ہم تمہاری اطاعت کریں  گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی باتوں  کو جانتا ہے۔