ترجمۂکنزالایمان: یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔ تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر اُن کے قفل لگے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں ۔ تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔
{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ: یہ وہ لوگ ہیں ۔} یعنی یہ فساد پھیلانے والے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا تو اس کااثر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وعظ و نصیحت سننے سے بہرا کردیا اور حق کی راہ دیکھنے سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اس لئے اب وہ حق راستے کی طرف ہدایت حاصل نہیں کر سکتے۔( روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۲۳، ۸/۵۱۷، صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴، ۵/۱۹۵۹-۱۹۶۰، ملتقطاً)
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ: تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟} یعنی جن کے دلوں میں نفاق کے قفل لگے ہیں وہ نہ تو قرآنِ کریم میں غوروفکر کر سکتے ہیں اورنہ ہی وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں پرتالے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں پہنچ ہی نہیں پاتی۔ تدبُّر قرآنِ پاک میں گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اورعقل و نقل کے حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَىۙ-الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْؕ-وَ اَمْلٰى لَهُمْ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی شیطان نے اُنہیں فریب دیا اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی تھی شیطان